وحی

اللہ تعالی

Urdu-0 Urdu-1 Urdu-2
Share on Facebook
Share on Twitter

A
 p
 o
 c
 a
 l
 i
 p
 s
 i
 s

Un día Nuestra Gran Novela he de escribir
y revivir en un libro de rosas,
En cada hoja un juramento temblará
y ahí estará tu carita hermosa,
Pobre será mi prosa,
Mas, habrá tu encanto
Porque yo pondré tus
lágrimas
en los pétalos de la más bella rosa.

Los dos escribiremos…,
Huum huum…

Un día nuestra gran novela he de escribir
y aquel vivir,
Con sol de vacaciones,
Las ilusiones quiero bien compaginar
y la ofrenda de un Amor de Leyenda,
Y será emblema sincero
el trinar de las aves,
Y el primer “Yo te quiero”
leve cual arpegio suave.
¡No!
¡Ni una sombra angustiosa!
(Apocalipsis 21:4)
Mas…
¡Sólo tan bellas cosas!
(1ra Corintios 2:9)
Un día nuestra gran novela haré abrir
Por revivir su más bello pasaje,
Tras resoplar todo el polvo que juntó
Yo leeré… y los dos reiremos,
Para sentir esa gran pasión,

tic tac

La Iglesia dice:

Yo siempre oigo tic tac, tic tac, tic tac.     (La soledad es pasajera)  
Oigo tic tac, tic tac, tic tac.
Mi corazón ya pronto dejará de latir.

El Diablo:

Cuando miro yo el reloj no quisiera verlo más
porque pronto tú te irás y ya nunca volverás.

Por eso oigo tic tac tic tac tic tac.
Oigo tic tac tic tac tic tac.
Mi corazón ya pronto dejará de latir.

El Mesías:

No quiero ser Novio que espera     (San Mateo 25:10)
sintiendo en su cuerpo un endor.
Quisiera saber cuantas cosas
nos hace sentir el amor.              
(Se amarán, se amarán, se amarán)

La Iglesia:

Por eso oigo tic tac, tic tac, tic tac.
Oigo tic tac, tic tac, tic tac.
Mi corazón ya pronto dejará de latir.

El Mesías:

No te alejes (al pecado) dulce amor,     (San Mateo 25:13)
No quisiera verte ir, pero el tiempo llegará
en que tengas que partir.                
(1ra Tesalonicenses 4:17)

La Iglesia:

Por eso oigo tic tac, tic tac, tic tac.
Oigo tic tac, tic tac, tic tac.
Mi corazón ya pronto dejará de latir.
Por eso oigo tic tac, tic tac, tic tac.
Oigo tic tac, tic tac, tic tac.
Mi corazón ya pronto dejará de latir.
Por eso oigo tic tac, tic tac, tic tac.
Oigo tic tac, tic tac.

La Iglesia:

Como en los días de Noe…
Como en los días de Lot…

Pusieron rosas rojas en memoria de su amor.
El cielo se ha encendido con un bello resplandor.
Y ya la enamorada le ha sabido perdonar.       
Borró su culpa la oración. Por fin descansará.  
(Cualquier pecador arrepentido)

Ipiaé ipiaiió.
Jinetes por el cielo van (Apocalipsis 9:17-19) y no se detendrán.                            
Leyenda de un jinete que galopa sin cesar,              
(Cualquier pecadora)
cumpliendo la condena de cruzar la eternidad,
por traicionar en vida lo que fué su
Gran Amor,
sembrando llantos y dolor en otro corazón.
Ipiaé ipiaiió.

JINETES por el cielo van (Apocalipsis 19:11-14) y no se detendrán.              
Ipiaé ipiaiió.

jinetes por el cielo van y no se detendrán.            (Desenlace entre el BIEN y el mal)
Ipiaé ipiaiió.

Galopan sin poder parar…., jamás.                           (La justicia Divina)

                Leyenda de un jinete que galopa sin cesar,   (Cualquier pecador)
         
cumpliendo la condena de cruzar la eternidad,(Vivir para siempre pero condenado)
        
por traicionar en vida lo que fué su Gran Amor (Dios y los buenos principios)
   
sembrando llantos y dolor en otro corazón.
  Ipiaé ipiaiió.
 Jinetes por el cielo van
(Apocalipsis 6:2-8)  y no se detendrán.                      
Detrás de aquel jinete van diablos en tropel     (Pensamientos acusatorios y otras cosas)
que gritan y castigan sin descanso a su corcel.
Son tantos los amores que en su vida traicionó  (Bajo las ramas extendidas del castaño
que nunca encontrará perdón en otro corazón.   yo te vendí y tú me vendiste.)
Ipiaé ipiaiió.
Jinetes por el cielo van (Apocalipsis 9:7-11) y no se detendrán.                

LAST WARNING


مجھے لگتا ہے کہ یہ اہم ہے, عزیز ریڈر, آپ کے لئے ہے کرنے کے لئے بہت واضح آپ کے دماغ میں کیا صورت حال ہے جس میں بنی نوع انسان ہو جائے گا جب حیوان کا نشان قائم ہے زمین پر ایک شرط کے طور پر خریدنے کے لئے اور فروخت.


کی پوزیشن دجال

بائبل کا کہنا ہے کہ:

"16 دوسرا جانور تمام چھو ٹے بڑے ، امیر غریب آزاد اور غلام سبھی سے زبر دستی کی کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ یا اپنی پیشانی پر نشان لگا ئیں۔ 17 اگر اس جانور کا نام ونشان یا اس کے عدد کسی شخص پر نہ ہو تو وہ کو ئی چیز خرید و فروخت نہ کر سکے گا۔18 کو ئی شخص جسے سمجھ ہو وہ جانور کے عددوں کے معنوں کو سمجھ سکتا ہے اس کے لئے دانشمندی ضروری ہے یہ عدددراصل آدمی کا عدد ہے جو ۶۶۶ ہے۔" (مکاشفہ 13: 16-18)

خدا کی پوزیشن

بائبل یہ بھی کہتے ہیں کہ:

پہلے دو فرشتوں کے بعد ایک تیسرا فرشتہ آیا اور تیسرے فرشتے نے بھی اونچی آواز میں کہا ،“جو کوئی اس جانور کی یا اس جانور کے بُت کی عبادت کرے اور اس جانور کا نشان اپنی پیشانی یا ہاتھ پر لگاتا ہے ، 10 گو یا ایسا شخص خدا کے غضب کی مئے پیتا ہے جو اسکے غضب کے پیا لے میں بغیر ملاوٹ کے تیار کی گئی ہے ایسے شخص کو جلتی ہو ئی گندھک کا عذاب مقدس فرشتوں اور میمنہ کے سامنے دیا جائے گا۔ 11 اور اس عذاب سے جو دھواں اٹھے گا وہ ہمیشہ اٹھتا رہیگا جو بھی اس جانور اور اس کے بت کی عبادت کریگا اور اس کے نام کا نشان حاصل کریگا اسے دن رات کبھی سلامتی نہیں ملے گی۔” 12 خدا کے مقدس لوگوں کو صبر کر نا چاہئے انہیں خدا کے احکام کی تعمیل اور یسوع پر مضبوط ایمان رکھنا چاہئے۔
13 تب میں نے آسمان سے آواز سنی اُسنے کہا ،“لکھو!اب سے جتنے لوگ خدا وند میں مرے ہیں وہ مُبارک ہیں۔”
اور روح نے کہا ہاں ،“وہ لوگ اپنی سخت محنت کی وجہ سے آرام پائینگے جو انہوں نے کی ہےوہی ان کے ساتھ ہونگے۔”
(مکاشفہ 14: 9-13).


زندگی اور موت زمین کے تمام باشندوں کے لئے ٹیسٹ

ایک ہاتھ پر ، ایک شیطانی آمرانہ حکومت قائم کیا جائے گا ، زمین پر کی ضرورت ہو گی آپ کو اور آپ کے خاندان کے لئے ایک نشان پیشانی پر یا ہاتھ کے لئے ترتیب میں ، خرید اور فروخت; اور آپ کے لئے مجبور کیا جائے گا کی عبادت شیطان اور جانور کے تحت موت کے خطرے اگر آپ کو انکار ہے ۔  اگر آپ قبول کی پوزیشن دجال اور انہیں آپ کو نشان زد کر, تو آپ کو آپ کی زندگی کو بچانے عارضی طور پر, اور آپ کر سکتے ہیں خریدنے خوراک ، پانی ، پٹرول ، کپڑے; آپ کر سکتے ہیں سب کچھ خریدنے کے کہ اب تک آپ کر رہے ہیں, واقعی, آپ کو خرید سکتا ہے کہ سب کچھ خریدا اور بیچا جاتا ہے ، لیکن کیا جائے گا کے تحت سائے کی برائی اور کھو دیں گے آپ کی روح. آپ کو ہو جائے گا میں سے ایک زمین کے باشندوں حاصل کریں گے جو عذاب کے 7 پیالے خدا کے قہر سے اوپر بیان.
اور یہ ایک عظیم امتحان کے لئے دوسرے ہاتھ پر خدا خبردار انسانیت کے نتائج قبول کرنے کے حیوان کا نشان اور مشورہ آپ کو نہیں اسے قبول کرنے کے لئے; لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی زندگی لیتا ہے ایک اچانک تبدیلی; بظاہر آپ کو کام نہیں کرے گا دنیا میں ہے کیونکہ یہ مشکل ہو جائے گا حاصل کرنے کے لئے ایک کام یہ ممکن نہیں ہوگا ، کھانا خریدنے کے لئے یا کچھ بھی ہے کہ دکانوں میں فروخت. اس مایوسی للچانا کر سکتے ہیں آپ کو حاصل کرنے کے لئے مارک کرنے کے لئے کے قابل ہو جائے کرنے کے لئے ایک معمول کی زندگی رہ معاشرے میں. میرا مشورہ ہے آپ کو ایک ہی مشورہ سے خدا نہیں ملتا نشان ہے ۔
وہ لوگ جو کا مطلب ہے اکاؤنٹ میں لے جانا چاہئے مشورہ یوسف کی (پیدائش 41:25-36). لیکن سب سے بڑھ کر ، خُدا پر بھروسہ ہے کے طور پر ایک وعدہ کے تحفظ بائبل میں بھر کی ساری بادشاہی دجال رہتا ہے جو تین اور ایک نصف سال (مکاشفہ 13:5) ان لوگوں کے لئے ، مومنوں کی گئی ہے جو اطاعت خدا کے احکام (مکاشفہ 3:10, 12:6); لیکن اگر آپ کے پاس جانے کے لئے بھوک لگی ہے یا مر بھی کرتے ، اس کے وفادار ہونے کے لئے اپنے خالق ہے ۔   یاد رکھیں, ایک بار سے زیادہ, کہ الہی کے گیت کی طرح لگتا ہے ، ایک الٹی میٹم کے ایک اعلان کے فیصلے اور نجات کے لئے دنیا.
خدا خود ایمان کے ذریعے, ہمیں مجبور کرنے کے لئے مثبت ہو جائے گا. لہذا ، یہاں تک کہ اگر راستہ تنگ ہے یقین ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہو جائے گا کے ذریعے تمام ٹیسٹ ، بالآخر دے ہمیں فتح جب وہ بحال کریں کرنے کے لئے ہمیں ابدی خوش زندگی.
میں نے آپ کی سفارش کی کتابیں "Exorcist کی طرف سے" ولیم پیٹر Blatty ، "کتاب کے شہیدوں" کی طرف سے جان Foxe, "ال Ayuno: Una cita con Dios" ڈیانا کی طرف سے بیکر اور پورے نئے عہد نامے میں بائبل کی مشورہ کے ساتھ پولوس رسول کہتا ہے کہ: "ثابت سب چیزوں سے روزہ پکڑ کے جو اچھا ہے"; یہ بھی پڑھیں پرانے عہد نامے میں زبور 37.
مسیح آپ کو بتاتا ہے:

"وہ جو اپنی جان بچا نا چاہتا ہے وہ اس کو کھو دیگا جو میری اور اس خوش خبری کی خاطر اپنی جان دیتا ہے وہ اس کی حفاظت کریگا۔ 36 ایک آدمی جو ساری دنیا کا مالک تو ہے لیکن اگر وہ اپنی جان کھوتا ہے تو پھر اس کو کیا فائدہ ؟”   (سینٹ مارک 8: 35-36)


میں آپ کو بتاتا ہوں:


لئے مرنے کے لئے خوشخبری (کو چھوڑ کر ، کورس کے ، کچھ ناپسندیدہ آیات میں بائبل) ہے ایسا کرنے کے لئے ایک اچھا وجہ کی وجہ سے انجیل کی طرف سے کھڑا ہے ، اچھا احکام اور وعدہ کی ابدی زندگی کے بعد موت کے ، اور اس کے لئے بہتر ہے وارث ایک ابدی بادشاہی جہاں بستا قانون ، حکم ، خوشی اور خوشحالی کے لئے تمام کی بجائے ایک اشوب اور شیطانی دائرے کی کرپشن ، غربت اور اداسی.
میں ان اہم اوقات یاد رکھیں کہ مشورہ کا کہنا ہے کہ:

"واچ تم اس وجہ سے, اور دعا ہمیشہ ..." (سینٹ لیوک 21:36)


یہاں میری فرم پوزیشن:


اگر میں مرنے کے لئے کے لئے ایک وجہ ، میں کروں گا تو اس کے لیے ہے جو کسی گیت کے بارے میں بات کرتا ہے اور خدا کے لئے ہے جو ماں کی زندگی, خلائی-سوچ, لامحدود ابدی اور مطلق رہنے کی جگہ, ذریعہ, میں جس کے ہاتھ...

آخری نماز

خدا باپ اور ماں کی تمام وجود آپ کے نام ہو مقدس اور بابرکت کے ہر کونے میں آپ کی کیا جا رہا ہے. مشکل اوقات میں کا سامنا کرنا پڑا کی طرف سے بنی نوع انسان اور شاید دیگر پرجاتیوں کے دوسرے سیاروں پر میں نے دعا کے لئے اپنے فہم ، عدل ، اور رحم کے لیے تمام گنہگاروں موجودہ دور میں کے طور پر اچھی طرح سے کے طور پر تمام مخلوق میں موجود ہے کہ ابدی ماضی میں آپ کے لامتناہی ہونے کے; کی اجازت دیتے ہیں کہ بہت سے بلایا جائے اور بہت سے منتخب کیا جائے ابدی زندگی کے لئے; سکتا ہے وہ بھی لایا جائے کرنے کے لئے صحیح راستہ, اور انصاف اور رحمت کے ساتھ درست ہوسکتا ہے, جیسا کہ میں خود کو درست کیا جا رہا ہوں, چھوڑ طرح کے گناہ اور محبت اچھا احکام; کر سکتے ہیں آپ کی مقدس روح اپنی پاک روح ہم میں کی طرح ہو جائے ایک تیل رکھتا ہے کہ وزیر داخلہ کی روشنی پر, اور تو کے طور پر لیمپ ، ہم کر سکتے ہیں چمک کرنے کے لئے ایک دوسرے کو دے خود کو سمجھنے اور مدد سے ان کے خطرناک اور اہم اوقات; اور مجھ میں لگائے جانے والی خوشی کے بیج بھی ان میں پیدا ہوئیں; کی اجازت ہے کہ وعدہ کی خوشی مجھے دیا پہنچنے ہر مخلوق موجود ہے کہ دوران آپ کے لامحدود ہونے کی وجہ سے مقامات کے قریب قربت میں ان تک نہیں پہنچا جاسکتا والوں کے لئے ہمارے تخیل لیکن قریب تجھ ہیں جو ہر طرف موجود; کی اجازت دیتے ہیں کہ ہر چیز میں پیدا ہوئے مستقبل کی نسلوں کے وارث ، ایک ہی نعمتوں کی تلاش بھاڑ میں مکمل امن ، خوشحالی اور ابدی ہم آہنگی; تیری شاندار بادشاہی آئے ۔  بہت بہت شکریہ کے لئے کہ جو کسی گیت کے بارے میں بات جو میں توقع کے ساتھ عما جسم کو پورا کرنے کے لئے موت کے بعد. میں دعا گو ہیں ان سب چیزوں میں اس کی/اس کے نام اور اس کے نام میں تمام مخلوق جو آپ سے محبت اور آپ کا احترام. آپ عالمگیر دماغ ہیں; تم سے سچ ہیں.

خدا کی نعمت, ریڈر, آپ کے ساتھ ہو اور آپ کے خاندان.

Fausto A. فرنانڈیج - 5 جنوری ، 2018 - U. S. A.

آخری گیت دلہن کے لئے...., پہلے ہی جلال میں آسمان.

میں نے آپ کو دعوت دیتے ہیں کو دیکھنے کے لئے اگلے دو ویڈیوز.

باب 6 (7 سیل)

 پھر میں نے دیکھا کہ میمنہ نے ان سات مہروں میں سے ایک مہر کو کھو لا میں نے ان چاروں جانداروں میں ایک کی گرجدار آواز کو کہتے سنا کہ “آؤ۔” 2 میں نے دیکھا کہ پہلے ہی سے ایک سفید گھوڑا وہاں ہے اور اس گھو ڑے کے سوار کے پاس کمان ہے اس سوار کو تاج دیا گیا اور وہ سوار ہو کر ایک فاتح کی طرح نکلا تا کہ نئی فتح مندی حاصل کرے۔
3 میمنہ نے دوسری مہر کو کھو لا تب میں نے دوسرے جاندار کو کہتے سنا “آؤ”۔ 4 تب دوسرا گھو ڑا آیا اور وہاں کھڑا ہو گیا یہ لال گھو ڑا آ گ کی مانند تھا۔ اس سوار کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ زمین پر سے سلامتی کو اٹھا لے اور آخر تک لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے کے درپے ہو نگے اور سوار کو ایک بڑی تلوار دی گئی۔
5 میمنہ نے تیسری مہر کو کھو لا اور میں نے تیسرے جاندار کو کہتے سنا “آؤ”اور میں نے دیکھا کہ ایک کالا گھو ڑا آکھڑا ہوا اس گھوڑسوار کے ہاتھ میں ترازو تھا۔ 6 تب میں نے ایک آواز آتی ہو ئی سنی جو ان چاروں جانداروں کی طرف سے آئی تھی آواز نے کہا ،“ایک دینار کے ایک سیر گیہوں اور ایک دینار کے تین سیر جَو ہو گی لیکن زیتون کے تیل اور مئے کا نقصان نہ کر۔”
7 میمنہ نے چوتھی مہر کو کھو لا اور چو تھی جاندار چیز کو میں نے کہتے سنا “آؤ”۔ 8 میں نے دیکھا کہ ایک زرد رنگ کا گھو ڑا کھڑا ہے اور اس سوار کا نام موت تھا۔ اس کے پیچھے عالم ارواح ہیں اور موت اور عالم ارواح کو زمین کے چو تھے حصہ پر اختیار دیا گیا کہ لوگوں کو تلوار ،فاقہ ،بیماری اور زمین کے جنگلی درندوں کے ذریعہ ہلاک کریں۔
9 جب میمنہ نے پانچویں مہر کو کھو لا تو میں نے قربان گاہ کے نیچے چند روحُوں کو دیکھا یہ اِن لوگوں کی روحیں تھیں جو مارے گئے تھے کیوں کہ جو خدا کے پیغام کو پہنچانے کی خاطر وفادار ٹھہرے کہ جو وہ قائم کئے ہو ئے تھے۔ 10 ان روحوں نے بلند آواز میں چیخ کر کہا ،“مقدس اور سچّے خداوند! کب تک روئے زمین کے لوگوں کا انصاف کریگا اور ہمارے ہلاک ہو نے کا بدلہ لیگا ؟” 11 ان میں ہر ایک جان کو سفید چغہ دیا گیا تھا۔ان سے مزید کُچھ اور وقت تک انتظار کرنے کو کہا گیا۔ تا وقتیکہ ان کے تمام بھا ئی بھی جو مسیح کی خدمت میں ہیں انہیں بھی ہلاک کیا جائے۔جو تُمہاری طرح ہلاک ہو ئے ہیں۔
12 جب میمنہ نے چھٹی مہر کو کھو لا تو میں نے دیکھا ایک بڑا زلزلہ آیا اور اُس وقت سورج کالا کمبل جیسا ہو گیا اور پو را چاند سرخ خون کی مانند ہو گیا۔ 13 آندھی چلنے کی وجہ سے آسمان کے ستارے زمین پراس طرح گرے جیسے درخت سے انجیر گر جاتے ہیں۔ 14 آسمان اس طرح تقسیم ہوا جیسے کا غذ کو لپیٹا جائے اور ہر پہاڑ اور جزیرہ اپنی جگہ سے کھسک گیا۔
15 تب زمین کے سارے لوگ جن میں دنیا کے بادشاہ ،حاکم ، فوجی سردار ،امیر لوگ ، اور تمام آزاد لوگ ہو یاکوئی غلام غاروں اور پہاڑوں کی چٹانوں میں جا کر چھپ گئے۔ 16 لوگوں نے پہاڑوں اور چٹانوں سے کہا “ہم پر گرو اور ہمیں میمنہ کے غصہ سے اور جو تخت پر ہے اِس سے چھپا لو۔ 17 اِن کے غصّہ کا عظیم دن آگیا اور کون ان کے سامنے ٹھہر سکتا۔؟”


باب 8

میمنہ نے ساتویں مہر کو توڑا تو تقریباُ آدھے گھنٹے تک آسمان میں خا موشی رہی۔ 2 پھر میں نے دیکھا سات فرشتے جو خدا کے سامنے کھڑے تھے انہیں سات بگل دیئے گئے۔
3 دوسرا فرشتہ آیا اور قربان گاہ کے پاس کھڑا ہو گیا اس فرشتے کے پاس سونے کا عود دان تھا۔ اس کو بہت سا عود دیاگیا تا کہ تمام مقدّس لوگوں کی دعا ؤں کے ساتھ سنہری قربان گاہ پر نذر کرے۔ جو تخت کے سامنے تھی۔ 4 فرشتہ کے ہاتھ میں جو عود دان تھا اس کا دھواں خدا کے مقدس لوگوں کے ساتھ اٹھا۔ 5 پھر فرشتے نے عود دان لیا قربان گاہ کی آ گ بھری اور وہ زمین پر ڈال دی نتیجہ میں بجلیوں کی گرج روشنیوں کی چمک اور زلزلہ سا آ گیا۔
پہلا بگل کا پھونکا جانا
6 پھر سات فرشتے جو بگلوں کو پکڑے ہو ئے تھے پھونکنے کے لئے تیار ہو گئے۔
7 پہلے فرشتے نے اپنا بگل پھو نکا آ گ کے ساتھ اولے اور خون کو زمین پر ڈا لا گیا نتیجہ میں ایک تہائی زمین جل گئی اور ایک تہائی درخت بھی جل گئے ساتھ ہی ساتھ تمام ہری گھا س بھی جل گئی۔
8 جب دوسرے فرشتے نے اپنا بُگل پھونکا تب ایک بڑا پہاڑ جیسا جلنا شروع ہوا جو سمندر میں پھینک دیا گیا ،نتیجہ میں ایک ایک تہائی سمندر خون میں بدل گیا۔ 9 اور ایک تہائی سمندر میں جتنے بھی جاندار تھے مرگئے اور ایک تہائی حصّے کے پا نی کے جہاز تباہ ہو گئے۔
10 جب تیسرے فرشتے نے بگل پھونکا تو ایک بڑا ستارہ مشعل کی مانند جلتا ہوا آسمان سے گرا۔ وہ ستارہ ایک تہائی ندیوں اور پانی کے چشموں پر گر پڑا۔ 11 اسی ستارے کا نام “ناگ دونا” ہے اس سے ایک تہائی ندیوں کا پا نی کڑوا ہو گیا اور اس کڑوے پا نی کو پینے سے کئی لوگ مر گئے۔
12 جب چو تھے فرشتے نے بگل پھو نکا تو ایک تہائی سورج ایک تہائی چاند اور ایک تہائی ستاروں کو دھکا پہنچا نتیجہ میں ایک تہائی حصہ اندھیرا ہو گیا اور ایک تہائی دن اور رات میں بھی روشنی نہ رہی۔
13 جب میں نے نظر دوڑائی تو ایک عقاب کو آسمان میں بلندی پر اڑتے اور بلند آواز میں یہ کہتے ہو ئے سنا “تباہی ،تباہی ،تباہی شروع ہو ئی ان لوگوں پر جو زمین پر رہتے ہیں۔ اور یہ کیوں کہ دوسرے تین فرشتوں نے اپنے بگلوں کو پھونکنے کے قریب تھے۔”


باب 9

 پانچویں فرشتے نے اپنا بگل پھو نکا تو میں نے ایک ستا رہ کو آسمان سے زمین پر گرتے ہو ئے دیکھا۔ اس ستا رہ کو ایک ایسے گہرے سوراخ کی کنجی دی گئی جو بلا کسی تہہ یا پیندی کے گہرے گڑھے کی طرف جاتاتھا۔ 2 اس ستارہ نے اس سوراخ کو کھو لا جو گہرے گڑھے کی طرف جا تا تھا۔ اور اس سوراخ سے ایسا دھواں اٹھا جیسے کسی بھٹی سے نکلتا ہے۔ اس دھواں کی وجہ سے آسمان اور سورج تا ریک ہو گئے۔
3 تب اس دھواں میں سے ٹڈیوں کا جھنڈ زمین پر آئے جنہیں زمین کے بچھوؤں جیسے ڈنک مارنے کی طا قت دی گئی۔ 4 لیکن ان سے کہا گیا کہ وہ زمین پر گھا س یا پو دے یا درختوں کو نقصان نہ پہونچائیں بلکہ ان لوگوں کو نقصان پہونچائے جنکی پیشانیوں پر خدا کی مہر نہ ہو۔ 5 ٹڈیوں کے جھنڈ کو پانچ مہینے تک لوگوں کو اذیت دینے کاا ختیار دیا گیا۔ اور ان ٹڈی دل کے ڈنک کی اذّیت ایسی تھی جیسے بچھو کے ڈنک مارنے سے آدمی کو اذیت ہو تی ہے۔ 6 ایسے وقت میں لوگ موت کو چاہیں گے لیکن موت ان سے بھا گے گی۔
7 ٹڈیوں کا جھنڈ ان گھو ڑوں کی مانند تھے جو جنگ کے لئے تیار ہوں ان کے چہرے آدمیوں کے چہرے جیسے تھے۔ اور وہ اپنے سروں پر تاج پہنے ہو ئے تھے جو سونے کی مانند نظر آ رہے تھے۔ 8 ان کے بال عورتوں جیسے تھے اور ان کے دانت شیرکے دانتوں کی مانند تھے۔ 9 ان کے سینے لوہے کے زرہ بکتر جیسے تھے اور ان کے پروں کی آ وا ز بہت سے گھو ڑوں اور رتھوں جیسی تھی جو لڑا ئی میں دوڑ رہے ہوں۔ 10 اور ان کے ڈنک وا لی دمیں بچھّو کے ڈنک جیسی تھی ان کی ُدموں میں پانچ مہینے تک لوگوں کو ضرر پہنچانے کی قوّت تھی۔ 11 یہ فرشتہ اس بغیر تہہ کے گڑھے کا بادشاہ تھا۔ اس کا نام عبرانی زبان میں ابدّون [a] اور یونا نی زبان میں اپلّیون تھا۔
12 پہلی مصیبت ہو چکی اور مزید دو بڑی مصیبتیں با قی تھیں۔
چھٹے بگل کا پھونکا جانا
13 جب چھٹے فرشتے نے بگل پھونکا تو ایک آواز سنا ئی دی جو سنہری قربان گاہ کے سینگوں میں سے آرہی تھی جو خدا کے سامنے ہے۔ 14 میں نے چھٹے فرشتے سے جس کے پاس بگل تھا کہا “چار فرشتے جو دریائے فرات کے پاس بندھے ہیں انہیں رہا کردے۔” 15 وہ چار فرشتے اسی مخصوص گھڑی دن مہینے اور سال کے لئے رکھے گئے تھے کہ آزاد ہو کر زمین کے ایک تہا ئی لوگوں کو مار ڈا لیں۔ 16 میں نے ان کی گنتی سنی کہ ان کی فوج میں کتنے سوار ہیں جب گنتی کی گئی تو وہ بیس کروڑ تھے۔
17 میں نے رویا میں گھو ڑے دیکھے ان کے سوار اسے دکھا ئی دیئے جن کی زرہ بکتر آ گ کی طرح سرخ، گہرے نیلے اور پیلے گندھک جیسے تھے۔ گھوڑوں کے سر شیر کی مانند تھے ان کے منہ سے آ گ دھواں اور گندھک نکل رہی تھی۔ 18 چونکہ ان تین اذیتوں سے آ گ دھواں اور گندھک ان گھوڑوں کے منہ سے نکل رہی تھی اور ایک تہا ئی آدمی مارے گئے۔ 19 گھوڑوں کی طاقت ان کے منہ اور ان کی دُموں میں تھی۔ ان کی دُمیں سانپوں کی مانند تھی جن کے سر تھے جن سے وہ لوگوں کو ضرر پہنچاتے تھے۔
20 باقی دوسرے لوگ ان آفتوں کی وجہ سے نہیں مرے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے برے کاموں سے جو ان سے سر زد ہو ئے تھے تو بہ نہیں کئے اپنے ہا تھوں سے بنا ئے ہو ئے سونے ، چاندی، پیتل، پتھر اور لکڑی کے بتوں کی عبادت کر نے سے باز نہیں آئے۔ حالانکہ وہ نہ تو سن سکتا ہے اور نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی چل سکتا ہے۔ 21 ان لوگوں نے قتل، اپنی جادوگری، اپنے جنسی گناہوں اور اپنی چوری سے باز نہ آئے اور نہ ہی تو بہ کی۔

باب 10
باب 11 (دو گواہوں)

تب مجھے ہاتھ کے عصا کی مانند ناپنے کی لکڑی کا ایک ڈنڈا دیا گیا اور کہا گیا کہ “جاؤ خدا کے گھر کو اور قربان گاہ کو ناپو اور وہاں کے عبادت کر نے والوں کو گنو۔ 2 لیکن ہیکل کے باہر کے آنگن کو الگ کرو اور اسے نہ ناپو کیوں کہ وہ غیر یہودیوں کو دیدیا گیا ہے اور وہ لوگ مقدس شہر کو بیالیس مہینوں تک روندیں گے۔ 3 اور میں اپنے دو گواہوں کو اختیار دونگا اور وہ ٹاٹ اوڑھینگے اور ایک ہزار دو سو ساٹھ دن تک نبوت کریں گے۔”
4 یہ دو گواہ دو زیتون کے درخت ہیں اور دو شمعدان جو زمین کے خدا وند کے سامنے کھڑے ہیں۔ 5 اگر کوئی شخص ان گواہوں کو ضرر پہنچانے کی کو شش کرے تو انکے منھ سے آ گ نکلے گی اور انکے دشمنوں کو مار ڈالے گی۔ اگر کو ئی شخص انہیں ضرر پہونچانے کی کوشش کرے تو اسے اسی طرح مرنا ہو گا۔ 6 اپنی نبوت کے دوران ان گواہوں کو اختیار رہے گا کہ وہ آسمان کو بند کر دیں تا کہ بارش نہ بر سے۔ اور انہیں یہ بھی اختیار ہو گا کہ وہ پانی میں تبدیلی کریں۔ اور انہیں یہ اختیار ہو گا کہ ہر قسم کی آفت زمین پر لائیں۔ اس طرح جتنی بار چاہیں وہ ایسا کر سکتے ہیں۔
7 جب ان دونوں گواہوں نے اپنی گواہی سنانا ختم کر دیں گے تو جانور ان سے لڑیگا یہ وہی جانور ہے جو بغیر تہہ کے گڑھے سے آیا ہے جانور انہیں شکست دیکر مار ڈالے گا۔ 8 اور ان گواہوں کی لاشیں اس بڑے شہر کی گلیوں میں پڑی رہیں گی انکے نام سدوم اور مصر ہیں۔ ان ناموں کے خاص معنیٰ ہیں یہ وہ شہر ہے جہاں انکے خدا وند کو بھی مصلوب کیا گیا تھا۔ 9 ہر قسم کے لوگ قبیلے اہل زبان اور قومیں ان دو گواہوں کی لاشوں کو ساڑھے تین دن تک دیکھتے رہیں گے اور لوگ انہیں دفن کر نے سے انکار کریں گے۔ 10 زمین پر رہنے والے لوگ ان دونوں کی موت سے خوش ہونگے اور دعوتیں کر کے ایک دوسرے کو تحفے دیں گے اور وہ ایسا اس لئے کریں گے کیوں کہ یہ دونوں نبیوں نے زمین کے لوگوں کو ستایا تھا۔
11 لیکن ان ساڑھے تین دن بعد خدا کی طرف سے ان دونو ں نبیوں میں زندگی داخل ہو ئی تو وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے تھے۔ جن لوگوں نے انہیں دیکھا بہت خوف زدہ ہو ئے۔ 12 اس کے بعد ان دو نبیوں نے آسمان سے آواز سنی جو ان سے کہہ رہی تھی “اوپر یہاں آؤ”اور دو نبیوں نے بادلوں کے ذریعے آسمان پر گئے انکے دشمنوں نے انکو آسمان میں جاتے ہوئے دیکھا۔
13 پھر اسی وقت ایک زلزلہ آیا نتیجہ میں شہر کا دسواں حصہ تباہ ہو گیا اور اس زلزلہ سے سات ہزار آدمی مر گئے۔ جو لوگ مرنے سے بچ گئے وہ بہت ڈرے ہوئے تھے اور آسمان کے خدا کی حمد کر نے لگے۔
14 دوسری بڑی تباہی ختم ہو ئی اور تیسری بڑی آفت جلد ہی آرہی ہے۔

ساتويں بگل کا پھونکا جانا
15 ساتویں فرشتے نے بگل پھو نکا تب آسمان میں بڑی آوازیں پیدا ہوئیں آوازوں نے کہا:
“دنیا کی بادشاہت ہمارے خداوند اور اسکے مسیح کی ہو گی
    جو ہمیشہ ہمیشہ حکومت کریگا۔”
16 تب چوبیس بزرگ جو خدا کے سامنے اپنے تخت پر تھے منھ کے بل گرے اور خدا کی عبادت کی۔ 17 بزرگوں نے کہا:
“اے خدا وند قادر مطلق ہم تیرے شکر گزار ہیں
    تو وہی ہے جو ہے اور جو تھا،
ہم تیرا شکر اداکرتے ہیں کہ تو نے اپنی بڑی قدرت سے
    بادشاہت شروع کی۔
18 دنیا کے لوگوں کو غّصہ آیا
    لیکن یہ وقت تیرے غضب کا ہے
اب وقت آیا ہے کہ مرے ہو ئے لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے
    اور یہ وقت ہے کہ تیرے خادموں نبیوں کو اجر ملے۔
یہ وقت ہے تیرے مقدس لوگوں کو
    اور جو تیری عزت کرتے ہیں بڑے اور چھو ٹے ہیں انہیں اجر ملے۔
“یہ وقت ہے کہ ان لوگوں کو تباہ کر نے کا جنہوں نے زمین کو تباہ کیا۔”
19 پھر آسمان میں جو خدا کا گھر ہےکھو لا گیا۔ مقدس صندوق کا وہ معاہدہ جو خدا نے اپنے لوگوں سے کیا اس کے گھر میں دکھا ئی دیا تب بجلیاں اور آوازیں گر جیں پیدا ہو ئیں اور زلزلہ آیا اور بڑے بڑے اولے پڑے۔


باب 12

باب 13


تب میں نے ایک جانور کو سمندرسے نکلتا ہوا دیکھا جس کے دس سینگ اور سات سر تھے۔ اس کے ہر سینگ پر ایک تاج تھا اور اس کے ہر سر پر برا نام لکھا ہواتھا۔ 2 جانور تیند وے جیسا دکھا ئی دیتا تھا اس کے پیر ریچھ کی مانند تھے اور اس کا منہ شیر ببر جیساتھا اور ساحل پر ٹھہرے ہو ئے اژدھے نے اپنی ساری طاقت اور تخت اور عظیم اختیار اس جانور کو دیا۔
3 اس کے دس سروں میں سے ایک سر کا مہلک زخم دکھا ئی دیا۔ لیکن وہ مہلک زخم اچھا ہو گیا دنیا کے تمام لوگ حیرا نی سے اس جانور کی پیروی کر نے لگے۔ 4 لوگوں نے اژدھے کی عبادت کرنی شروع کی۔کیوں کہ اس نے اپنی طا قت جانور کو دی تھی اور لوگ اس جانور کی بھی عبادت کرنے لگے اور کہا،“کون اس جانور کی مانند طاقتور ہے؟ اور کون اس سے لڑ سکتا ہے؟”
5 اس جانور کو غرور کی الفاظ اور کفر کے کلمات کہنے کے لئے اس کو بیا لیس مہینے تک طاقت کے استعمال کر نے کی چھوٹ دی گئی۔ 6 اس جانور نے خدا کے خلاف کفریہ الفاظ کہنے کے لئے منہ کھو لا اور خدا کے نام کے خلاف اس کے آسمان کے رہنے وا لوں کے لئے کفر کے جملے کہے۔ 7 اس جانور کو خدا کے مقدس لوگوں کے خلاف لڑنے اور ان کو ہرا نے کا اختیار دیا گیا ہر قبیلہ ہر نسل کے لوگوں اور ہر قوم کے اہل زبان پر اختیار دیاگیا۔ 8 زمین کے تمام لوگوں نے اس جانور کی عبادت کرنی شروع کی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو دنیا کے شروع ہو نے کے بعد جن کے نام میمنہ کی کتاب حیات میں نہیں تھے۔صرف میمنہ ہی تھا جو ذبح کیا گیا۔
9 ہر ایک شخص جس کے کان ہوں غور سے سنے:
10 اگر کوئی قید میں جانے وا لا ہے
    تو وہ قید میں جاتا ہی ہو گا
اگر کو ئی تلوار سے قتل کیا جاتا ہے تو وہ تلوار سے ہی قتل ہو گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے مقدس لوگوں کو ایمان اور صبر کی ضرورت ہے۔

زميني جانور
11 تب میں نے ایک دوسرے جانور کو دیکھا جو زمین سے آیا ہوا تھا۔جس کو میمنہ کی مانند دو سینگ تھے اور اژدھے کی طرح بولتا تھا۔ 12 یہ جانور پہلے جانور کے سامنے کھڑے ہو کر اور اپنے اختیار کو استعمال کرنا شروع کیا اور زمین پر رہنے وا لے لوگوں کو پہلے جا نور کی عبادت کر وا نا شرع کی پہلا جانور وہی تھا جس کو مہلک زخم لگا اور وہ اچھا ہو گیا تھا۔ 13 یہ دوسرا جانور بھی بڑے عجیب عجیب معجزے دکھا تا تھا حتیٰ کہ وہ لوگوں کو آسمان سے زمین پر آ گ آتی ہو ئی دکھا تا تھا۔
14 دوسرا جانور زمین پر رہنے وا لے لوگوں کو بے وقوف بناتا تھا کیوں کہ وہ اس اختیار کے ذریعے جو اس کو دیا گیا تھا اس کے ذریعہ بے وقوف بنا تا وہ اس قسم کے معجزوں سے پہلے جانور کی گویا خدمت کرتا۔دوسرے جانور نے لوگوں کو حکم دیا کہ پہلے جانور کی تعظیم کے لئے ایک بت بنا ئے یہ وہ جانور تھا جو تلوار سے زخمی ہوا پھر بھی مرا نہیں۔ 15 دوسرے جانور کو اختیار دیاگیا کہ پہلے جانور کے بت میں جان ڈالے تا کہ وہ بہت لوگوں سے بات کر کے حکم دے کہ جنہوں نے اس جانور کی عبادت نہیں کی وہ قتل کئے جائیں گے۔ 16 دوسرا جانور تمام چھو ٹے بڑے ، امیر غریب آزاد اور غلام سبھی سے زبر دستی کی کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ یا اپنی پیشانی پر نشان لگا ئیں۔ 17 اگر اس جانور کا نام ونشان یا اس کے عدد کسی شخص پر نہ ہو تو وہ کو ئی چیز خرید و فروخت نہ کر سکے گا۔
18 کو ئی شخص جسے سمجھ ہو وہ جانور کے عددوں کے معنوں کو سمجھ سکتا ہے اس کے لئے دانشمندی ضروری ہے یہ عدددراصل آدمی کا عدد ہے جو ۶۶۶ ہے۔


باب 14

تب میں نے دیکھا کہ میرے سامنے میمنہ ہے جو کوہِ صیّون پر کھڑا ہے اور اس کے ساتھ ایک لاکھ چوالیس ہزار لوگ ہیں انکی پیشانیوں پر اسکا نام اور اس کے باپ کا نام لکھا ہوا ہے۔
2 میں نے آسمان سے ایک آوا ز سنی جو سیلاب کے پا نی کے شور اور گرجدار بجلی کے شور کی مانند تھی۔ جو آواز میں نے سنی وہ ایسی ہی تھی جیسے کچھ لوگ بر بط بجا رہےہوں۔ 3 لوگوں نے ایک نیا گیت تخت کے سامنے اور چار جانداروں اور بزرگوں کے سامنے گایا جن لوگوں نے وہ نیا گیت سیکھا تھا تعداد ایک لاکھ چوالیس ہزار تھی۔ جو دنیا میں سےخرید لئے گئے تھے۔ ان کے سوا اور کوئی دوسرا اس گیت کو نہ سیکھ سکے۔
4 یہ ایک لاکھ چوا لیس ہزار وہ لوگ تھے جنہوں نے عورتوں کے ساتھ کو ئی برا کام نہیں کیا بلکہ اپنے آپ کو پا کیزہ رکھا۔ وہ جہاں بھی گئے وہاں میمنہ کے ساتھ چلے اور یہ ایک لا کھ چوا لیس ہزار لوگ دنیا کے لوگوں میں سے خریدے گئے تھے۔ یہ پہلے لو گ تھے جنہیں خدا اور میمنہ کے لئے پیش کیا گیا۔ 5 ان لوگوں نے کبھی جھوٹ نہیں کہا کوئی غلطی نہیں کی۔

تین فرشتے
6 تب میں نے دوسرے فرشتے کو ہوا میں اونچائی پر اڑتے دیکھا۔جس کے پاس ابدی خوشخبری تھی زمین کے رہنے والی ہر قوم قبیلہ اور اہل زبان لوگوں کو سنانے کے لئے۔ 7 فرشتے نے بڑی آواز میں کہا “خدا سے ڈرو اور اسکی تعریف کرو کیوں کہ اس کے انصاف کر نے کا وقت آگیا ہے۔ خدا کی عبادت کرو جس نے آسمان ،زمین ،سمندر اور چشموں کو پیدا کیا۔”
8 تب دوسرے فرشتے پہلے فرشتے کے بعد آیا اور کہا، “عظیم شہر بابل تباہ ہو گیا۔ اُس نے تمام قوموں کو اپنی فحاشی کو اور خدا کے غضب کی مئے پلائی ہے۔”
9 پہلے دو فرشتوں کے بعد ایک تیسرا فرشتہ آیا اور تیسرے فرشتے نے بھی اونچی آواز میں کہا ،“جو کوئی اس جانور کی یا اس جانور کے بُت کی عبادت کرے اور اس جانور کا نشان اپنی پیشانی یا ہاتھ پر لگاتا ہے ، 10 گو یا ایسا شخص خدا کے غضب کی مئے پیتا ہے جو اسکے غضب کے پیا لے میں بغیر ملاوٹ کے تیار کی گئی ہے ایسے شخص کو جلتی ہو ئی گندھک کا عذاب مقدس فرشتوں اور میمنہ کے سامنے دیا جائے گا۔ 11 اور اس عذاب سے جو دھواں اٹھے گا وہ ہمیشہ اٹھتا رہیگا جو بھی اس جانور اور اس کے بت کی عبادت کریگا اور اس کے نام کا نشان حاصل کریگا اسے دن رات کبھی سلامتی نہیں ملے گی۔” 12 خدا کے مقدس لوگوں کو صبر کر نا چاہئے انہیں خدا کے احکام کی تعمیل اور یسوع پر مضبوط ایمان رکھنا چاہئے۔
13 تب میں نے آسمان سے آواز سنی اُسنے کہا ،“لکھو!اب سے جتنے لوگ خدا وند میں مرے ہیں وہ مُبارک ہیں۔”
اور روح نے کہا ہاں ،“وہ لوگ اپنی سخت محنت کی وجہ سے آرام پائینگے جو انہوں نے کی ہےوہی ان کے ساتھ ہونگے۔”
زمین کی فصل
14 تب میں نے دیکھا کہ ایک سفید بادل میرے سامنے ہے اس بادل پر ابن آدم کے جیسا کو ئی بیٹھا ہے جس کے سر پر سونے کا تاج اور اسکے ہاتھ میں تیز درانتی تھی۔ 15 پھر دوسرا فرشتہ خدا کے گھر سے باہر آیا اور اس بادل پر بیٹھا ہوا تھا پکار کر کہا “اپنی درانتی لو اور فصل کاٹو کیوں کہ زمین کی فصل کی کٹائی کا وقت آگیا ہے زمین کی فصل پک گئی ہے۔” 16 وہ جو بادل پر بیٹھا تھا اس نے زمین پر درانتی پھینک دی اور زمین کی فصل کٹ گئی تھی۔
17 تب دوسرا فرشتہ آسمان کی ہیکل سے باہر آیا اس فرشتے کے پاس بھی تیز درانتی تھی۔ 18 ایک اور فرشتہ قربان گاہ سے آیا جو آ گ پر اختیار رکھتا تھا اس نے تیز درانتی والے فرشتے سے کہا ،“اپنی تیز درانتی لے اور زمین کے انگور کی بیلوں سے انگور کے گچُھے جمع کر لے کیوں کہ زمین پر انگور پک چکے ہیں۔” 19 فرشتے نے اپنی درانتی زمین پر پھینکی۔فرشتے نے زمین کے انگوروں کی بیل سے انگور جمع کر کے خدا کے غضب کی مئے کے کولہوں میں پھینک دیا۔ 20 انگوروں کو اس کولہو میں نچوڑا گیا جو شہر کے باہر تھا۔ جس سے اتنا خون بہا کہ وہ گھو ڑے کے لگام کی اونچائی تک دوسو میل کے فاصلے تک بہہ نکلا۔

باب 15


تب میں نے آسمان میں ایک نشا نی دیکھی جو بڑا ہی عظیم اور تعجب خیز تھی کہ سات فرشتے سات پچھلی آفتیں لا رہے تھے اور ان آفتوں پر خدا کا غضب ختم ہو گیا ہے۔
2 میں نے آ گ سے ملا شیشے کا سمندرجیسا دیکھا سب لوگ جنہوں نے اس جانور اور اس کے بُت اور اسکے نام کے عدد پرفتح حاصل کی اس شیشہ کے سمندر کے پاس بربطیں لئے کھڑے ہو ئے تھے۔جو خدا نے انہیں دی تھی۔ 3 اور انہوں نے خدا کے بندہ موسیٰ کا گیت گایا اور میمنہ کا گیت گا گا کر کہتے تھے:
“خدا وند خدا قادر مطلق
    تیرے کام بڑے عجیب ہیں
تو قوموں کا بادشاہ ہے
    تیرے راستے راست اور درست ہیں۔
4 اے خدا وند کون تجھ سے نہیں ڈرتا ؟
کون تیرے نام کی تعریف نہیں کر تا ؟
    اس لئے کہ تو ہی تنہا مقدس ہے
تمام قومیں آکر تیرے سامنے عبادت کریں گی۔
    کیوں کہ واضح ہے کہ تو جو کُچھ کرتا ہے وہ صحیح ہے۔”
5 اس کے بعد میں نے دیکھا کہ شہادت کے خیمہ کا مقدّس آسمان میں کھو لا گیا۔ 6 سات فرشتے سات آفتوں کو اٹھا ئے خدا کے گھر سے باہر آئے وہ صاف اور چمکدار سوتی لباس پہنے ہو ئے تھے اور اپنے سینوں پر سنہرے پٹکے باندھے ہوئے تھے۔ 7 تب ان چار جانداروں میں سے ایک نے ان ساتوں فرشتوں کو سات عدد سونے کے کٹورے دیئے جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے خدا کے غضب سے بھرے ہو ئے تھے۔ 8 خدا کا گھر خدا کی قدرت اور جلال کے دھواں سے بھر گیا کو ئی بھی اس گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو سکا جب تک ان سات فرشتوں کی سات آفتیں ختم نہ ہو گئی۔

باب 16 (7 کٹورا)


تب مجھے خدا کے گھر میں سے ایک بڑی آواز سنائی دی وہ آواز سات فرشتوں سے کہی!“جاؤ اور خدا کے غضب کے کٹورے کو زمین پر انڈیل دو۔”
2 پہلا فرشتہ گیا اور اپنے کٹورے کو زمین پر انڈیل دیا تب ایک بد نما تکلیف دہ پھو ڑا جس پر جانور کا نشان تھا ان تمام لوگوں پر ابھر آیا جو اُس بت کی عبادت کر تے تھے۔
3 دوسرے فرشتے نے اپنا کٹورہ سمندر پر انڈیلا نتیجہ یہ ہوا کہ سمندر خون میں بدل گیا جیسے کسی مردے کا خون اور سمندر کے تمام جاندار مرگئے۔
4 تیسرے فرشتے نے اپنے کٹورے کو دریاؤں اور پانی کے چشموں پر انڈیلا نتیجہ یہ ہوا کہ دریا اور چشمے کا پا نی خون میں تبدیل ہو گیا۔ 5 پھر میں نے پا نی کے فرشتے کو خدا سے کہتے سنا:
“تم یہ فیصلہ کرنے میں منصف نکلے۔
ایک صرف تو ہی ہے جو ہمیشہ تھا اور ہمیشہ موجود رہیگا۔
تو ہی مقدس ہے۔
6 لوگوں نے تیرے مقدس لوگوں کا اور تیرے نبیوں کا خون بہایاتھا
اور تو نے ان لوگوں کو خون پینے دیا۔”
7 میں نے قربان گاہ کو کہتے سنا:
“بے شک اے خدا وند خدا قادر مطلق
    تیرے فیصلے درست اور راست ہیں۔”
8 چوتھے فرشتے نے اپنا کٹورہ سورج پر انڈیلا نتیجہ یہ ہوا کہ سورج کو اپنی آ گ سے لوگوں کو جھلسا نے کا اختیار دیا گیا۔ 9 وہ لوگ شدت کی گرمی سے جھلس گئے تو انہوں نے خدا کی شان میں کفر کے کلمات بکنے لگے لیکن خدا ہی ہے جو ان آفتوں پر اختیار رکھتا ہے پھر بھی لوگوں نے نہ تو اپنے دلوں اور زندگیوں کو بدل کر توبہ کی نہ خدا کی حمد کئے۔
10 پانچویں فرشتے نے اپنا کٹورہ اس جانور کے تخت پر چھڑکا اور ایک لمحے میں جانور کی بادشاہت تاریکی میں ڈوب گئی اور لوگ دردو کرب سے اپنی زبانیں کاٹنے لگے۔ 11 اور اپنی تکلیفوں اور زخموں کی وجہ سے آسمان کے خدا کے بارے میں کفر بکنے لگے لیکن انہوں نے اپنے کئے ہو ئے برے کاموں سے توبہ نہ کی۔
12 چھٹے فرشتے نے اپنا کٹو رہ بڑے دریائے فرات پر انڈیل دیا تو دریاکا پانی سوکھ گیا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرق سے آنے والے بادشاہوں کے لئے راستہ تیار ہوا۔ 13 تب میں نے تین نا پاک روحیں جو مینڈکوں کی مانند تھی اژدھے کے منہ سے، اور جھو ٹے نبی کے منہ سے نکلتے دیکھا۔ 14 یہ بدروحیں خبیث روحیں تھیں اور جنہیں معجزہ کی طرح نشانیاں دکھانے کی قوت ہے اور یہ بدروحیں تمام دنیا کے بادشاہوں کو خدا قادر مطلق کے عظیم دن کے دن جنگ کے لئے جمع کر تی ہیں۔
15 “سنو! میں یکا یک ایک چور کی طرح آؤں گا۔ اور مبارک ہے وہ شخص جو جاگتا رہے اور اپنے کپڑے اپنے پاس رکھے تا کہ اسے بغیر کپڑوں کے جانے کے لئے مجبور نہ کیا جا ئے تا کہ لوگ اسکی برہنگی کو نہ دیکھیں۔”
16 تب بدروحیں بادشاہوں کو ایک مقام جس کو عبرانی زبان میں ہرمجدّون کہتے ہیں اس جگہ جمع کیں۔
17 پھر ساتویں فرشتے نے اپنا کٹورہ ہوا میں انڈیل دیا گرجدار آواز تخت سے جو خدا کے گھر کے اندر تھی آئی اور آواز نے کہا! “ختم ہو گیا۔” 18 پھر بجلیاں اور آوازیں اور گرج کے ساتھ ایسا سخت زلزلہ آیا کہ اس سے پہلے یعنی جب سے زمین پر انسان کی پیدا ئش ہو ئی ایسا بڑا اور سخت زلزلہ کبھی نہیں آیا تھا۔ 19 بڑا شہر تین حصوں میں بٹ گیا۔ اور قوموں کے شہر تباہ ہو گئے اور خدا نے عظیم بابل کے لوگوں کو سزا دینا نہیں بھو لا اس نے اپنے غصے سے غضب کی مئے کا پیا لہ پلائے۔ 20 ہر ایک جزیرہ غا ئب ہو گیا اور کو ئی پہاڑ بھی کہیں نظر نہیں آیا۔ 21 بڑے بڑے اولے جن کا وزن تقریباً پچاس کلو گرام تھا آسمان سے لوگوں پر گرے اور دوزخ کی آفت کے سبب لوگ خدا کے لئے کفر بکنے لگے اور یہ آفت نہا یت ہی نا قابل برداشت تھی۔


باب 17

باب 18

باب 19


ان باتوں کے بعد میں نے آسمان پر گو یا بڑی کلیسا کو بلند آواز سے یہ گاتے ہو ئے سنا کہ:
“ہِلّلُویاہ!
فتح اور جلال اور قدرت ہمارے خدا ہی کی ہے۔
2 اسکے فیصلے سچّے اور درست ہیں ہمارے خدا نے اس فاحشہ کو سزا دی جس نے زمین کو اپنی حرام کاریوں سے خراب کیا تھا اور اس سے اپنے بندوں کے خون کا بدلہ لیا۔”
3 ایک بار پھر آسمان پر انہوں نے کہا:
“ہِلّلُویاہ۔ اس کے جلنے سے ہمیشہ ہمیشہ دھواں اٹھتا ہی رہیگا۔”
4 تب چوبیس بزرگ اور چار جاندار جھک کر سجدہ کئے اور اس خدا کی عبادت کی جو تخت نشیں تھا۔ انہوں نے کہا:
“آمین، ہِلّلُویاہ!”
5 تب تخت سے ایک آواز آئی جس نے کہا:
“تعریف اس خدا کے لئے جس کی تم سب بندگی کر تے ہو
تعریف اس خدا ہی کے لئے تم سب چھو ٹے بڑے ڈر تے ہو!”
6 تب پھر میں نے ایک آواز سنی جو کسی بڑی کلیساء کی آواز کی جیسی تھی ،جو پانی کی زور سے بہنے کی جیسی آواز تھی اور بجلی کی کڑکنے کی جیسی زور دار آواز تھی۔ وہ کہہ رہی تھی:
“ہِلّلُویاہ!
    ہمارا خدا وند خدا ہی قادر مطلق ہے
    جو حکومت کر تا ہے۔
7 ہم کو خوشیاں منا نے دو خوش رہنے دو اور خدا کی حمد کر نے دو اس لئے میمنہ کی شادی کا وقت آگیا ہے
    اور میمنہ کی دلہن نے اپنے آپ کو پو ری طرح تیار کر لیا ہے۔
8 مہین کتان کا کپڑا جو چمک دار اور صاف ہے
    دلہن کو پہننے کے لئے دیا گیا”
(مہین کتان کا مطلب خدا کے مقدس لوگوں کے نیک اعمال ہیں۔ )
9 تب فرشتے نے مجھ سے کہا!“یہ لکھو! جن لوگوں کو میمنہ کی شادی کی دعوت میں مدعو کیا گیا وہ مبارک ہیں” پھر فرشتے نے کہا، “یہ خدا کے سچے الفاظ ہیں۔”
10 تب میں فرشتے کے قدموں میں عبادت کر نے کے لئے جھک گیا لیکن فرشتے نے مجھ سے کہا!“میری عبادت مت کرو میں بھی تمہارے اور تمہارے بھا ئیوں کی طرح خدمت گزار ہوں جو یسوع کی گواہی دینے پر قائم ہیں۔ اسلئے تم خدا کی عبادت کرو۔ کیوں کہ یسوع کی گواہی ہی نبوت کی روح ہے۔”
سفید گھو ڑے کا سوار
11 تب میں نے آسمان کو کھلا دیکھا اور میرے سامنے ایک سفید گھو ڑا تھا اس گھوڑے کا سوار سچا اور وفا دار کہلا یا کیوں کہ وہ انصاف سے فیصلہ کر تا ہے اور جنگ کر تا ہے۔ 12 اسکی آنکھیں شعلہ کی مانند اسکے سر پر کئی تاج ہیں اور اس پر ایک نام لکھا ہے۔ اور وہی اس نام کو جانتا ہے۔ کو ئی دوسرا اس نام کو نہیں جانتا۔ 13 وہ خون میں ڈوبی ہو ئی پوشاک پہنا ہے اس کا نام “خدا کا کلام”ہے۔ 14 آسمان کی فوجیں جو سفید گھو ڑے پر سوار ہیں انکی پو شاکیں مہین کتان کی تھیں جو سفید اور صاف تھیں۔ 15 ایک تیز تلوار سوار کے منھ سے باہر نکلتی ہے۔ وہ اس تلوار کو قوموں کی شکست کے لئے استعمال کرتا ہے۔ وہ فولادی عصا سے قوموں پر حکو مت کریگا وہ انگوروں کو خدا کے غضب کی بھٹی میں نچوڑ یگا۔ خدا جو بڑی قدرت والا ہے۔ 16 اسکے چغّہ پر اور اسکے ران پر اسکا نام لکھا ہے:
بادشاہوں کا بادشاہ خداوندوں کا خدا وند
17 پھر میں نے ایک فرشتے کو سورج پر کھڑا دیکھا اس فرشتے نے زور دار آواز سے تمام پرندوں سے کہا جو اونچے آسمان پر اڑ رہے تھے۔ گرج دار آواز میں بلا یا اور کہا، “خدا کی بڑی دعوت میں شریک ہو نے کے لئے جمع ہو جاؤ۔ 18 آؤ اور خود جمع کرلو تا کہ تم بادشاہوں کا گوشت ،فوجی سرداروں کے مشہور آدمیوں کا ،گھو ڑوں کا اور انکے سرداروں کا اور سب آدمیوں کا چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام چھو ٹے ہوں یا بڑے کا گوشت کھاؤ۔”
19 تب میں نے اس جانور اور زمین کے بادشاہوں کو دیکھا کہ انکی فوجیں جمع ہو ئیں تا کہ اس گھوڑ سوار اور اسکی فوجوں کے خلاف جنگ کریں۔ 20 لیکن وہ جانور اور جھوٹا نبی پکڑا گیا۔ یہ وہی جھو ٹا نبی تھا جس نے اسکے سامنے معجزے دکھا ئے تھے۔ اس جھو ٹے نبی نے لوگوں کو گمراہ کر نے کے لئے معجزے کئے جو جانور کی اور اسکے بت کی عبادت کیا کر تے تھے اس جھو ٹے نبی اور جانور کو زندہ آ گ کی جھیل میں ڈال دیا گیا جس میں گندھک جل رہی تھی۔ 21 اس کی باقی فوجیں اس سوار کے منھ سے جو تلوار نکلی تھی اس سے ختم ہو گئیں اور تمام پرندوں نے انکے گوشت کو کھا لیا یہاں تک کہ شکم سیر ہو گئے۔


باب 20


میں نے ایک فرشتے کو آسمان سے نیچے آتا ہوا دیکھا اس فرشتے کے پاس بغیر تہہ کے جہنم کے گڑھے کی کنجی تھی اور اس فرشتے کے ہاتھ میں ایک بڑی زنجیر بھی تھی۔ 2 اس فرشتے نے اژدھے کو یعنی پرا نے سانپ کو پکڑ لیا جو شیطان ہے فرشتے نے شیطان کو زنجیر سے ایک ہزار سال کے لئے باندھ دیا 3 اور تب فرشتے نے شیطان کو جہنم کے گڑھے میں پھینک دیا اور اس کو بند کر کے اس میں تا لا لگا دیا تا کہ وہ اژدھا ہزار سال تک زمین کے ان لوگوں کو گمراہ نہ کر سکے اور ہزار سال کے بعد اس اژدھے کو مختصر عرصے کے لئے چھو ڑا جا ئے گا۔
4 تب میں نے کچھ تخت دیکھے جن پر لوگ انصاف کر نے کے لئے بیٹھے ہو ئے تھے پھر میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ یسوع کی گواہی دینے کے سبب سے اور خدا کے کلام کے سبب سے قتل کئے گئے تھے۔ اور ان لوگوں نے اس جانور اور اس کےبُت کی عبادت سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے اس جانور کی نشانی کو اپنی پیشانیوں اور اپنے ہاتھوں پر نہیں ڈلوا یاتھا وہ لوگ پھر زندہ ہو کر مسیح کے ساتھ ہزار سال تک حکومت کریں گے۔ 5 ( اور دوسرے مردے لوگ جب تک ہزار سال پو رے نہیں ہو ئے دوبارہ زندہ نہیں ہو ئے )
یہی پہلی قیامت ہے۔ 6 مُبارک اور مقدس ہیں وہ جو پہلی قیامت میں شریک ہو ئے پر دوسری موت کا کچھ اختیار نہیں بلکہ وہ خدا کے اور مسیح کے کاہن ہوں گے۔ اور وہ لوگ ایک ہزار سال تک اس کے ساتھ بادشاہی کریں گے۔
شیطان کی شکست
7 جب ایک ہزار سال ختم ہوجا ئیں گے تو شیطان کو چھوڑ دیا جائے گا۔ 8 تب شیطان ساری زمین پر اپنی چالوں سے قوموں کو بہکا نے کے لئے آئے گا وہ یاجوُج وما جوُج کو گمراہ کریگا اُن کا شمار سمندر کے ریت کے برابر ہوگا۔
9 شیطان کی فوجیں تمام زمین پر پھیل جا ئیں گی اور پھر خدا کے لوگوں کے لشکر اور اسکے عزیز شہر کو گھیر لے گی لیکن آسمان سے آ گ آکر شیطان کی فوج کو تباہ کر دے گی۔ 10 اس شیطان کو جس نے لوگوں کو گمراہ کیا تھا جانور اور جھو ٹے نبی کے ساتھ جلتی ہو ئی گندھک کی جھیل میں پھینک دیا جائے گا جہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ عذاب دیا جا ئے گا۔
دُنیا کے لوگوں کا فیصلہ
11 تب میں نے ایک بڑا سفید تخت دیکھا۔ اور میں نے ایک شخص کو اس تخت پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ اس کے سامنے سے زمین اور آسمان بھا گ گئے اور غائب ہو گئے۔ 12 تب میں نے دیکھا کہ لوگ چھوٹے اور بڑے جو مر چکے وہ تخت کے سامنے کھڑے تھے اور کئی کتا بیں کھو لی گئی پھر اور ایک کتاب کھو لی گئی یہ تھی کتاب حیات اور جس طرح ان کتا بوں میں لکھا ہوا تھا ان کے اعمال کے مطا بق مُردوں کا انصاف کیا گیا۔
13 سمندر نے اپنے اندر کے جتنے مر دہ لوگ تھے اسے دیدیا موت اور عالم ارواح نے بھی اپنے مُر دہ لوگوں کو دے دیئے ہر آدمی کا اس کے اعما ل کے موافق حساب کر کے انصاف کیا گیا۔ 14 موت اور عالم ارواح کو آ گ کی جھیل میں پھینک دیا گیا یہ آ گ کی جھیل دوسری موت ہے۔ 15 اور اگر کسی شخص کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا تب اس کو آ گ کی جھیل میں پھینک دیا جا ئے گا۔

باب 21

تب میں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا سابقہ آسمان اور سابقہ زمین جاتی رہی تھی اور وہاں کو ئی سمندر نہیں تھا۔ 2 اور میں نے ایک مقدس شہر کو خدا کی طرف سے آسمان سے نیچے آتے ہو ئے دیکھا۔ وہ مقدس شہر نیا یروشلم ہے اور اُس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے سنگار کیا ہو۔
3 میں نے تخت سے ایک زوردار آواز سنی جس نے کہا ،“اب خدا کا گھر لوگوں کے پاس ہے وہ ان کے ساتھ رہے گا وہ اُس کے لوگ ہو ں گے وہ بذات خود ان کے ساتھ ہوگا اور وہ ان کا خدا ہو گا۔ 4 خدا ان کی آنکھوں سے ہر ایک آنسو کو پونچھ دے گا دوبارہ پھر کو ئی موت نہیں ہو گی اور نہ غم اور نہ رونا اور نہ درد سب پرانی چیزیں جاتی رہیں گی۔”
5 وہ جو تخت پر بیٹھا تھا اس نے کہا!“دیکھو یہاں میں ہر چیز نئی بنا رہا ہوں” پھر اس نے کہا ،“تم ان الفا ظ کو لکھو کیوں کہ یہ الفا ظ سچے اور بر حق ہیں۔”
6 وہ جو تخت پر بیٹھا تھا اُس نے مجھ سے کہا “یہ ختم ہوا میں ہی الفا اور او میگاہوں۔ ابتداء اور انتہا میں چشمئہ حیات سے ہر پیا سے کو مفت پانی دوں گا۔ 7 اور جو کو ئی فتح حاصل کرے اسے سب کچھ ملے گا اور میں اس کا خدا ہونگا اور وہ میرا بیٹا ہو گا۔ 8 لیکن جو لوگ ڈرپوک ہیں اور بے ایمان ہیں بھیا نک کام کر نے والے خونی اور جنسی حرامکار ،جادو گر ،بُت کی عبادت کر نے والے اور جھو ٹے ہیں۔ ایسے تمام لوگوں کی جگہ جلتی ہو ئی گندھک کی جھیل میں ہے یہ دوسری موت ہے۔”


*** (خلاصہ کے مکاشفہ کی کتاب) ***

Top

....... چھوڑ دیا جاتا ہے ، مکاشفہ کی کتاب ہے ۔

نغمہ نغمہ

(Wake up Ipiae)

آپ کا مخلص